Welcome To My Blogs


This forms a compilation of all my written work done so far!!!!!!
The work involves celebrity interviews that I have conducted so far, my journalism work and literary work, my fiction work...and my TV plus radio shows...
I did radio, I did TV, and I always to find the real me..
As a writer, I could write more openly and that explored the real me..
Stay Blessed..
Cheers...
Sadaf
Showing posts with label شادی، ارینجڈ شادی، فلمی شادی، شادی آن لائن، marriage. Show all posts
Showing posts with label شادی، ارینجڈ شادی، فلمی شادی، شادی آن لائن، marriage. Show all posts

Saturday, October 14, 2017

شادی- ایک ٖفیصلہ یا انتخاب؟




"عمر سینتیس سال ہو چکی ہے"
"ابھی تک بے چاری کا بخت نہیں کھلا"
"پتہ نہیں بے چاری کی تقدیر کب کھلے گی؟"
"ہاۓ اتنی خو بصورت ہے، پھر بھی کوئی نہیں ملا"
"کیا آپ کو تنہائی محسوس نہیں ہوتی؟"
"کیا آپ کو کوئی چاہنے والا نہیں ملا؟"
"لگتا ہے آپ کے ماں باپ کو آپ کی فکر ہی نہیں"
"بیٹی کے بوجھ سے جلد از جلد سبکدوش ہونا چاہیئے"

اب یہ چند وہ الفاظ ہیں جو کنواری لڑکیوں کا جینا دو بھر کر دییتے ہیں۔۔نہ ہمارے لوگ کسی کے حالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بس ایک ہی رٹ لگائی ہوتی کہ شادی کیوں نہیں ہوئی۔
ہمارے معاشرے میں بن بیاہی لڑکیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔  صرف یہی نہیں، طلاق یافتہ، خلع ہافتہ اور سنگل ماؤں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ کچھ لوگوں کے مطابق لڑکی کا سگھڑ، امیر، خاندانی ، شریف، خوبصورت اور تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے ورنہ اچھا رشتہ نہیں ملتا۔
اب یہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میرے جاننے والوں میں کچھ بے حد غریب لڑکیاں بھی ہیں  جن کی شادیاں وقت پر ہو گیئں۔۔
کچھ بہت حسین اور امیر لڑکیاں بھی ہیں جو اب تک کنواری ہیں۔  ایک اور المیہ ہمارے معاشرے کا یہ ہے کہ ذرا لڑکی کی عمر تیس  سے زیادہ ہوئی، وہاں لوگ بڑی عمر کے شادی شدہ مردوں کے رشتے بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ بغیر یہ دیکھے کہ عمر بے شک زیادہ ہے، مگر ہے تو لڑکی کنواری ہی۔ ایک شادی شدہ عمر رسیدہ آدمی کے ساتھ رشتہ طے کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔
کچھ ماں باب،  جن کی کنوارہ بر ملنے کی امید بالکل ختم ہو چکی ہوتی ہے، ایسے رشتوں پر ہاں کر دیتے ہیں۔
میری ایک بڑی عمر کی سہیلی کی شادی ایک طلاق یافتہ مرد سے طے کر دی گئی۔ لڑکی نے صبر کر لیا۔ کچھ عرصے بعد اس کی پہلی بیوی حلالہ کر کے واپس آنے کی خواہشمند ہو گئی۔ چونکہ ان صاحب کی بھی محبت اپنی پہلی بیوی سے تھی، دوسری کو چھوڑنا پڑا۔ اب میری دوست واپس اپنے والدین کے گھر آ گئی ہے۔ اور شادی کے نام سے توبہ کر لی ہے۔ ایک تو شادی ہوئی بڑی عمر میں اور وہ بھی ناکام ہو گئی۔ وہ بزرگ جو اس وقت نصیب کھولنے پر بضد تھے، وہ سب غائب ہو گئے۔
ایک شادی شدہ اور ذہنی مریض، جس کی دو بیویاں اس سے خلع لے کر چلی گئی تھیں، کے ساتھ میرا نصیب کھولنے کی کوشش بھی کی گئی۔ میں نے سوچا، یہ بے چارہ تو اپنا نصیب نہیں کھول سکتا، میرا کیا کھولے گا؟ انکار کر دیا۔  
ایک بات غور طلب ہے کہ ہر لڑکی شادی نہیں کر سکتی۔ کچھ لڑکیوں کے گھریلو حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ شادی کر ہی نہیں سکتیں۔ مثال کے طور پر میری ایک سہیلی تھی جس کے باپ کا  انتقال ہو گیا تھا۔ اس کی والدہ بھی علیل تھیں اور وہ لڑکی اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے کما رہی تھی۔ اچھی خاصی خوش شکل اور پڑھی لکھی تھی۔  لیکن وہ شادی نہیں کر سکتی تھی۔
اسی طرح   میری جان پہچان میں دو اور ایسی لڑکیاں ہیں جو شادی نہیں کر سکتیں۔ دونوں بچپن سے جگر کی مریضائیں ہیں۔  ان کی میڈیکل رپورٹس شادی کے  خلاف ہیں۔اسی طرح دو بہنیں ہیں جن  کا باپ  پچھلے دس سال سے   کومے کی  حالت میں ہے اور ماں کی بینائی ختم ہو چکی ہے۔ دونوں بہنیں گھر کے کام کرنے کے ساتھ ساتھ علیل والدین کی مکمل دیکھ بھال بھی کرتی ہیں اور نرس کی ڈیوٹی بھی کر رہی ہیں۔   شادی کا پوچھو تو صاف انکار کر دیتی ہیں کہ بیمار ماں باپ کو کون دیکھے گا؟
کبھی کبھی اچھی شکل ، شرافت اور تعلیم  کے باوجود ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ انسان شادی نہیں کر سکتا۔  میری ایک دوست ہے جس کو بچے نہ ہونے پر شوہر نے شادی کے پانچ سال بعد طلاق دے دی۔ وہ  لڑکی اب  اپنی بیوہ ماں کے ساتھ  ریتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ بچے وہ پیدا کر نہیں  سکتی، شادی کر کے اس نے کیا کرنا ہے۔ اگر مرد بہت بھی اچھا ہو، تو بھی اس کی ماں یا بہن بچہ نہ ہونے کے طعنے ضرور دیتے ہیں۔یہ سب وہ بھگت چکی ہے اور مزید نہیں دیکھنا چاہتی۔
لڑکی کا کنوارہ رہنا معاشرتی مجبوری کے تحت نہیں ہوتا، کبھی  کبھی اس کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے۔   جب میں  نے میڈیا  میں قدم رکھا  تو بہت سی ایسی مثالیں دیکھیں جہاں لڑکیاں اپنے گھر والوں کی کفالت کر رہی تھیں۔ مجھ سے بھی ہر  انٹرویو میں یہی سوال بار بار پوچھا گیا۔ جس کا ایک  ہی جواب تھا کہ بڑی عمرکے شادی شدہ مردوں کے رشتے  تھے، اس لیے میرے والدین  نہیں مانے۔
ہر ماں باپ کے اپنی بیٹی کے لیے کچھ خواب ہوتے ہیں۔ وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کی  بیٹی کو کمانے والا، کنوارہ اور شریف لڑکا  ملے۔ کون سے ایسے ماں باپ ہیں جو چاہیں گے کہ کنواری بیٹی کی شادی کسی بڑی عمر  کے بچوں والے مرد سے کر دی جاۓ اور وہ گھٹن زدہ زندگی گزارے۔
ایک اچھی بات جو دیکھنے میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ اب غریب طبقے میں بھی خاصہ شعور بیدار ہونے لگا ہے۔ ایک دن میری  گھر کام کرنے والی عورت کہنے لگی، "باجی میری بیٹی کے رشتے سب بڑی عمر کے شادی شدہ مردوں کے ہیں۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ کوئی لڑکا ہی دیکھوں گی۔ بڑی عمر والوں کو لڑکی نہیں دوں گی۔ اس کو پڑھا لکھا کر اس قابل کروں گی کہ کل کو اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکے۔ ایک رشتہ ستر سال کے آدمی کا آیا ہے جو اب تیسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ میں نے انکار کر دیا ہے"
یہ سب جان کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بس۔ عام طورر پر اس طبقے میں بیٹی بوجھ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ایک ملازمہ کے خیالات جان کر مجھے بہت اچھا لگا۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گی اپنے آپ کو اتنا مضبوط کریں کہ کل کو حالات کا مقابلہ کر سکیں۔ ہر لڑکی کے لیے شادی ممکن نہیں ہوتی۔ ہمارے یہاں لوگ صرف مشورے دینے کے شوقین ہوتے ہیں۔ وہی گھسی پٹی پرانی باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ شادی لڑکی کا نصیب کھول ہی دے گی۔ میری چند بڑی عمر کی سہیلیوں نے شادی شدہ مردوں سے شادیاں کی تھیں، جو ایک یا دو سال میں ہی بری طرح ناکام ہو گیئں۔ بھلا کیا نصیب کھلا ان کا؟ الٹا ماں باپ کے گھر واپس آ گیئں۔
میرا کہنا یہی ہے کہ اگر رشتے مناسب نہ ہوں، یا بالکل ہی بے جوڑ ہوں، تو نہیں کرنا چاہییے۔ اپنے آپ میں  اتنی قوت پیدا کرنی چاہیئے کہ انسان حالات کا سامنا کر سکے۔ 

Wednesday, June 4, 2014

ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور


ایک بہت عجیب صاحب سے بات ہوئی کچھ عرصہ قبل۔ انہوں نے کہیں میرے مضامین پڑھ رکھے تھے۔ کافی تعریف کی۔ اصل تکلیف یہ تھی کہ میں جو بھی مضمون لکھتی تھی، اس کو وہ میری ذاتی زندگی کے ساتھ وابستہ کر دیتے تھے۔ ایک مضمون میں نے جہیز کے خلاف لکھا تھا، اس پر تنقید کرتے ہوۓ موصوف فرمانے لگے کہ لڑکیوں کو چاہیۓ کہ اپنے ماں باپ کے انتظار میں بیٹھنے کے بجاۓ خود سے معاملہ طے کر لیا کریں۔ اگر ماں باپ نہیں بھی مانتے تو کورٹ میرج کر لیا کریں۔ میں اپنے آپ کو لبرل کہتی ہوں، شاید لبرلزم ان کے قریب یہی ہوتا ہوگا۔ میں نے پوچھا - آپ کی کتنی بہنیں ہیں؟ ان کا کیا سین ہے؟ آگے سے فرمایا، کہ ایک بہن انتالیس سال کی ہو چکی ہے۔ تو میں نے طنزیہ کہا، یہ مشورہ آپ ان کو کیوں نہیں دیتے جو آپ باقی خواتین کو دے رہے ہیں کہ کورٹ میرج کر لیں۔آپ کی بہن بھی تو عمر رسیدہ ہو رہی ہیں نا۔ وہ بھی کورٹ میرج کیوں نہیں کر لیتیں۔۔ موصوف کے پاس کوئی جواب نہیں بچا۔ سواۓ اس کے کہ تم لکھاری لڑکیاں بےحد جھکی ہوتی ہو۔

فر فر انگریزی اور تانگہ


کچھ عرصہ قبل یہماری ایک آنٹی کو خیال آیا کہ ایک ماں باپ کا بوجھ میرے صورت میں ابھی موجود ہے۔ (حالانکہ) اتنا بھی بوجھ نہیں ۔ کافی عرصہ سے دبلے پتلے ہی ہیں۔ لیکن وہ بضد تھں کہ ایک بہت اچھا خاندان ہے۔ سو اس سے مل لیا جاۓ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ وہ ان کے کیا لگتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب وہ لاہور ہوتی تھیں، تب ان کی پروسن کی دوست کی رشتہ دار کے کزن کا بیٹا تھا۔ یہ تو بہت دور کی بات ہوئی نا۔۔ اب اتنی دوری بھی اچھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے لڑکے کی والدہ کو ہمارا نمبر پکڑا دیا اور ساتھ میں احسان بھی جتلا دیا۔ کہ بہت اچھا بر ڈھونڈا ہے۔ ہماری اماں بے چاری خوش ہو گئیں۔ جب بات چیت فون پر شروع ہوئی تو اماں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ کیسے لوگ ہیں۔۔اس کی والدہ رات کو 12 بجے فون کرتی تھیں۔ اب یہ بات بھی ہمیں عجیب لگی کہ کوئی جگری دوستی تو ہے نہیں جو رات گئے فون کیا جا رہا تھا۔ کسی ان جانے بندے سے اگر فون پر بات کرنی بھی ہو تو 10 بجے سے شام 5 سے 6 بجے کے بیچ میں کرنا مہذب سمجھا جاتا ہے۔ خیر، معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا 2 لاکھ مہینہ کماتا تھا۔ تعلیم صرف ایف اے تھی۔ اب یہ بات بھی عجیب سی لگی۔ کہ اگر بیٹا 2 لاکھ کماتا ہے تو گھر والے تانگے میں بازار کیوں جاتے ہیں؟ جب مزید سوالات پوچھے گیے تو اس کی والدہ نے بتایا کہ لڑکے کی ڈیمانٖڈ ہے کہ لڑکی فر فر انگریزی بولتی ہو۔ فر فر انگریزی لکھتی ہو۔ کیونکہ جب ان کے ہاں فیکٹری میں سالانہ ڈنر ہوتا ہے اس میں وہ لوگوں کو دکھا سکے کہ کم تعلیم والے کو بھی فر فر انگریزی بوہلنے والی ملی ہے۔ اب یہ سن کر اماں ہماری ہکا بکا رہ گیئں۔۔یہ بھی بڑی عجیب سی ڈیمانڈ تھی۔ ہر چند کہ اس بنیاد پر لڑکی کرنا کہ "لوگوں کو فیکٹری میں دکھا سکے" والی بات کچھ عجیب سی لگی۔ تانگے میں بازار جانا ہمیں ذرا ایڈونچر لگا۔ اب خدا جانے یہ کون سا طبقہ تھا جو سودا سلف خریدنے بھی تانگے میں بازار جاتا تھا۔۔ایک اور دل چسپ انکشاف اور بھی ہوا۔ کہ موصوف نہ ٹی وی دیکھنا پسند کرتے تھے، نہ ریڈیو سننا پسند کرتے تھے نہ ان کے گھر میں کوئی اخبار، رسالہ، یا میگزین آتا تھا۔۔ان کے گھر میں یہ سب پسند ہی نہیں کیا جاتا تھا۔ اب یہ بات اماں کو بہت عجیب لگی کہ دنیا سے قطع تعلق کر کے بیٹھ جانے والے لوگ عجیب ھی ہونگے۔ آج کل تو ڈھابوں اور سستے ہوٹلوں تک میں ٹی وی ریڈیو لگا ہوتا ہے۔ ہو نا ہو، کرکٹ کا سکور اور کمنٹری تو لوگ دیکھ ھی لیتے ہیں۔ مزید ایک انکشاف یہ ہوا کہ ہماری یہ آنٹی ہماری پھوپھی کی سگی جیٹھانی تھیں۔ ان کی ہماری پھوپھی سے شدید دشمنی تھی۔ انہوں نے سوچا ان کی بتھیجی(یعنی میں) کو غلط جگہ پھنسا دیتی ہوں۔ بدلہ پورا ہو جاۓ گا۔۔کچھ کچھ فون پر ہی انکی سیاست کی سمجھ آنے لگی۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ دوبارہ جب ان کا فون آیا۔ تو اماں نے wrong number اور یہ کہ کر جان چھڑائی کہ وہ لوگ (یعنی ہم) اب دوسرے گھر شفٹ ہو گیے ہیں۔۔۔ایسے مواقع پر کال بلاک اور sms block service کے لیے تالیاں بجانے کو جی چاہتا ہے۔
نوٹ: یہ بلاگ بھی طنز پر مبنی ہے۔

Monday, June 2, 2014

شادی نامہ


ارینجڈ شادی:
یہ بے کار ترین قسم ہے جہاں لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ لڑکا لڑکی کے درمیان ہونے کے بجاۓ دو ماؤں، خالاؤں، چاچوں، ایک سٹیٹس کی دوسرے سٹیٹس کے کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ تکا چل بھی جاتا ہے۔ لیکن اگر اس میں جھوٹ زیادہ بولا گیا ہے، تب اسکا پنپنا مشکل ہوتا ہے۔۔
جہیز والی شادی:
اس میں تمام دھیان صرف لڑکی کے جھیز لانے کی طرف ہوتا ہے۔۔چاہے موٹی، ہو، کالی ہو، بونی ہو، لمبی ہو، پر جہیز بہت سا لے کر آۓ۔۔
محبت کی شادی:
اسکا بھوت بہت جلد اتر جاتا ہے۔ والدین اس انتظار مین بیٹھے ہوتے کہ کب لڑکا لڑکی کے بیچ 
جھگڑے شروع ہوں اور وہ طعنہ بازی کر سکیں۔۔یہ ذیادہ ترفلاپ ہی ہوتی ہے۔ 
فلمی شادی:
اس طرح کی شادی میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے بنا نہیں رہ سکتے۔۔یا تو گھر سے بھاگ جاتے ہیں یا والدین کے سامنے ایک فلمی ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے۔ لڑکی کھانا پینا چھوڑدے گی، لڑکا اپنی کلائی کاٹ لے گا۔ کمزور اعصاب کے والدین اس دھمکی میں آ جاتے ہیں مگر عقلمند ماں باب نہایت ہوشیاری سے اولاد کو سمجھاتے ہیں کہ بیٹا تم اس سے بہتر کے قابل ہو۔ اس سے بہتر تو ہم ڈھونڈ کر دیں گے۔ اب جو لڑکا لڑکی احمق ہوں، وہ بھی اس بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔۔اور خوشی خوشی فلمی شادی نہیں ہو پاتی۔۔
خفیہ شادی:
یہ عام طور پر کسی فلمی اداکارہ کی ہوتی ہے۔ ہوتی تو ویسے خفیہ ہے پر ساری دنیا جان جاتی ہے۔ سسرال والے کافی پیسہ کھا پی کر الزام لگا دیتے کہ تم فلم کی لڑکی ہو،گر ہستن نہیں بن سکتیں۔ ہمارے بیٹے کی ناک کٹوا دی۔۔اسکا انجام بھی علیحدگی پر پوتا ہے۔۔
تحفظ کی شادی:
بقول بڑی بوڑھیوں کے، کہ لڑکی کا تحفظ شوہر ھی سے ہوتا ہے، اچھی خاصی پڑھی لکھی قبول صورت لڑکی کو ایک جاہل کے پلے باندھ دیا جاتا ہے تحفظ کی آڑ میں۔ تحفظ بہرھال پھر 
بھی نہیں مل پاتا۔۔
وٹہ سٹہ شادی:
یہ بہت ہی عجیب سی ہوتی ہے، اس میں اگر ایک جوڑے میں علیحدگی ہو جاۓ، تو امید کی جاتی ہے دوسرا جوڑا بھی علیحدگی اختیار کر لے۔ 
ہنگامی شادی:
یہ ایسے حالات میں کی جاتی کہ جب "لڑکا ولایت سے آیا ہو۔ ماں اس کی بلائیں لیتے نہیں تھکتی۔ اس میں جھوٹ بہت بولا جاتا ہے۔ بڑھ چڑھ کر تعریفیں کی جاتی ہیں کہ لڑکا باہر 3، 4 لاکھ کما رہا ہے۔ سادہ لوح والدین اس جھانسے میں آ جاتے اور لڑکی بیاہ دیتے۔ باہر جا کر لڑکی بیچاری کو معلوم ہوتا کہ اسکا شوہر تو ایک معمولی سا 
ڈرایور ہے۔ اور سارے سپنوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ جو زرا ہمت والی ہوتی، وہ گزارہ کر لیتی، جو ماں باپ سٹیٹس کے شوقیں ہوں، وہ پھر علیحدگی کروانے کا سوچتے کہ لوگون کو کیا منہ دکھائیں گے کہ بیٹی ایک ٹیکسی چلانے والے کو دے دی۔۔
مال والی شادی:
یہ عام طور پر ایسے بڈھوں سے کی جاتی جن کے پاس مال دولت بہت ہو اور جن کے دن پورے ہونے والے ہوں۔ ہوشیار خواتین میڈیکل رپورٹ کا مطالعہ کر کے اس شادی کی ہامی بھرتی ہیں۔
فراڈ شادی:
یہ شادی عام طور پر تب وجود میں آتی ہے جہاں لڑکے والے/لڑکی والے شادی آفس کے چکر پہ چکر لگاتے ہیں۔ اس میں دونوں کا دھیان گرین کارڈ، باہر ملک کی شہریت، یا بیرون ملک سٹل ہونے پر ہوتا ہے۔ اس میں آفس والے لڑکے لڑکی والوں سے اچھی طرح پیسے بٹور کر انہیں خوب الو بناتے ہیں۔ یہاں وہ ماں باپ بے وقوف بنتے جن کے بچے خود سے اپنا ساتھی چننے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ یا جن کے ملنے جلنے والوں کو اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ "موٹی مرغی" نہیں ہیں۔ ایسے ماں باپ جان پہچان والوں کے رویے سے مایوس ہو کر میرج آفس کے ھاتھوں خوب دھوکہ کھاتے ہیں۔ اور انسان کو تحفظ دینے کے لیے میرج آفس والے بار بار یہی کہتے کہ بس جی، یہ پچھلے ہفتے ہی ہم نے فلاں منسٹر یا فلاں جنرل کی بیٹی کی بات طے کی ہے۔ عام طور پر جھانسہ پارٹی کی سمجھ آ جاتی ہے۔ اور ان کے زریعے بات نہیں طے ہو پاتی۔۔جو والدین بے وقوف بن بھی جاتے، تو عقل جلد ہی آ جاتی ہے۔ دفتر کے پے رول پر ’’گرین کارڈ ہولڈرلڑکا‘‘ خود لڑکی والوں کا انٹرویو کر کے اسے ریجیکٹ کرتا ہے، جسے اسی کام کی تنخواہ ملتی ہے۔۔
بزرگ طے شادی:
یہ بھی ایک دل چسپ قسم ہے۔ اس میں زرا فلمی ٹچ بھی ہوتا ہے۔ اس میں ایک نانی یا دادی صاحبہ یہ فیصلہ سنا دیتی ہیں کہ میری پوتی میرے نواسے کی بیوی بنے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ کالج جا کر لڑکی لڑکے کے خیالات بدل جاتے ہیں۔ جب وہ کزن میرج پر میڈیکل کالج میں پڑھتے، تو دن بہ دن اس شادی کے خلاف ہوتے جاتے۔۔کچھ کیسیز میں یہ کامیاب بھی ہو جاتی ہے جہاں خاندانوں میں پیار محبت ہو، ورنہ جہاں خاندانوں میں سیاست اور جہالت ہو، وہاں کوئی نہ کوئی لڑکی والوں یا لڑکے والوں کے کان بھرنا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔اور مسئلے شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔
نوٹ: یہ بلاگ مزاح پر مبنی ہے۔ اسکو سنجیدگی سے نہ لیا جاۓ۔ اس میں ایک طرح کا طنز پوشیدہ ہے۔